| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
نہيں کہتے عالم لوگ جانيں وہ کافِر کہيں۔ ''مگر کيا يہ لوگ نہيں جانتے کہ عوام کے تو وُہی عقائِد ہونگے جو قُرآن و حديث وغيرہُما سے عُلَمانے اُنھيں بتائے يا عوام کے لئیكوئی شرِيعت جُداگانہ ہے ؟جب ايسا نہيں تو پھر عالِمِ دين کے بتائے پر کيوں نہيں چلتے!نيز يہ کہ ضَرورِيا تِ (دین)کا انکار کوئی ايسا اَمْر نہيں جو عُلَماہی جانيں۔ عوام جو عُلَما کی صُحْبت سے مُشَرَّف ہوتے رہتے ہيں وہ بھی اُن سے بے خبر نہيں ہوتے ۔پھر ايسے مُعامَلہ ميں پہلُوتَہی اور اِعراض(یعنی منہ پھیرنے)کے کيا معنٰی!
(بہارِ شریعت حصّہ 9 ص 173 ،174)
قَطعی کافِر کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافِر ہو جاتا ہے
مزیدبہارِ شریعت حصّہ اوّل میں ہے:''مسلمان کو مسلمان، کافِر کو کافِر جاننا ضَرور يا تِ دین سے ہے . ....قَطْعی کافِر کے کُفر میں شک بھی آدَمی کو کافِر بنا دیتا ہے....... اِس زمانہ میں بعض لوگ يہ کہتے ہیں کہ میاں!جتنی دیر اسے کافِر کہو گے اُتنی دیراللہ اللہ کرو یہ ثواب کی بات ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب