جواب: کافِر کو کافِر کہنانہ صِرف جائزبلکہ بعض صورتوں میں فرض ہے۔ صَدْرُالشَّرِیْعَہ ،بَدْرُ الطَّريقہ حضرت علامہ مَوْلانامُفتی محمد امجَد علی اَعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:''ایك یہ وَبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ہم تو کافِر کو بھی کافِر نہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اِس کا خاتِمہ کُفْر پر ہو گا۔ ''يہ بھی غَلَط ہے۔ قُرآ نِ عظیم نے کافِر کو کافِر کہا اور کافِر کہنے کاحکْم دیا۔(چُنانچِہ ارشاد ہو تا ہے:)
قُلْ یٰۤاَیُّھَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
تَرْجَمَہ کنزالايمان :تم فرماؤ اے کافرو ! (پ 30 الکافرون 1)
اور اگر ايسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو، تمہيں کيا معلوم کہ اِسلا م پرمرے گا، خاتِمہ کا حال تو خدا (عَزَّوَجَلَّ )جانے۔آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:بعض جاہِل يہ کہتے ہيں کہ ''ہم کسی کو کافِر