Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
58 - 692
جواب:نابالغ مگرسمجھدار بچے کے مسلمان یا کافر ہونے میں خود اسی بچّہ کا اعتبار ہے البتّہ ناسمجھ بچّہ میں تفصیل یہ ہے کہ کافِر میاں بیوی میں سے اگر کوئی ایک مسلمان ہو گیا تو اُن کے نابالِغ ناسمجھ بچّے مسلمان ہونے والے کے تابِع ہوں گے یعنی مسلمان مانے جائیں گے لہٰذاکافر باپ زندہ ہو یا مر گیا ہو، ماں کے قَبولِ اسلام سے ناسمجھ نابالِغ بچّے خود بخود مسلمان ہو گئے۔جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 26 صَفْحَہ327 پر فرماتے ہیں:''ماں کے مسلمان ہونیسے دونوں نابالِغ بچّے مسلمان ہو گئے۔''ہِدایہ ودُرِّمُختار وغیرہما میں ہے:(فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں:)بچّہ والدَین میں بہتر دین والے کے تابع ہوتا ہے۔
(تَنْوِیرُ الْاَبْصَار ج4 ص 367)
نا بالِغ کا کُفر کس عُمر میں مُعتَبَر ہے؟
سُوال:نابالِغ بچّہ کا کفر کس عمر میں مُعتبر ہے؟
جواب:سات برس یا زیادہ عمر کا بچّہ جو کہ اچّھے بُرے کی تمیز رکھتا ہو وہ اگر کفر
Flag Counter