| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
کوکُفْرجاننا کُفْر ہے۔ ہاں اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بِنا پر تَکفیرہوسکے اوراس نے اُسے کافِر کہااور کافِر جانا تو(کہنے والا)کافِر نہ ہوگا۔
(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج 6 ص 111)
نیز فرمایا :(مسلمان کوبطور گالی)بدمذہب، مُنافِق، زِندیق ، یہودی، نصرانی، نصرانی کا بچّہ، کافِر کا بچّہ کہنے پر بھی تَعزِیر (سزا)ہے۔"
(بہارِشریعت حصّہ 9 ص 126، 127،دُرِّمُختارج 6 ص 112 ، اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج5 ص74)
البتّہ جو واقِعی کافِر ہے اُس کو کافِر ہی کہيں گے ۔
دوسرے کے بارے میں کافر ہونے کی آرزو
سُوال:زید نے بکر سے کہا:''کاش!تُوسِکھ ہوتا کہ کم از کم تیرے چِہرے پر داڑِھی تو ہوتی۔''زید کے بارے کیا حُکم ہے ؟
جواب:زید بے قید کے اِس قولِ بد تراَز بَول میں کُفْر پر راضی رَہنا پایا جارہا ہے یہ کہنا کفر ہے حضرت عَلَّامہ علی قاری علیہ رحمۃُاللہِ الباری نقْل کرتے ہیں : ''سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنِیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:کسی کے کُفْر پر راضی ہونا بِغیر کسی تفصیل کے