Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
54 - 692
 کرے تو کیا حکْم ہے؟
جواب:وہ''مفتی ''ہی نہیں جوقَطْعی کُفْر میں اختِلاف کرے بلکہ عوام کے ساتھ ساتھ ایسے مفتی کا حکم بھی فُقَہا ئے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام کے نزدیک یہ ہے:
مَنْ شکَّ فِیْ عَذَابِہٖ وَ کُفْرِہٖ فَقَدْ کَفَرَ۔
یعنی جو اُس(قَطْعی کفر بکنے والے کافِر)کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ خود کافِر ہے۔
(دُرِّمُختار ج6 ص356)
مسلمان کو کافِر کہنا کیسا؟
سُوال:کسی سُنِّی صحيح العقيدہ مُسلمان کو کافِر کہنا کیسا ہے
جواب: صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدْرُ الطَّريقہ حضرتِ علامہ مَولانامفتی محمدامجد علی اَعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''کسی مُسلمان کو کافِر کہا تو تعزِیر (یعنی سزا)ہے۔ رہا یہ کہ وہ قائِل(یعنی مسلمان کو کافر کہنے والا)خود کافِر ہوگا یا نہیں، اِس میں دو صُورَتیں ہیں:(1) اگر اسے مسلمان جانتا ہے تو کافِرنہ ہوا اور(2)اگر اسے کافِر اِعتِقاد کرتا (یعنی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ کافر ہے)تو خود کافِر ہے کہ مسلمان کو کافِر جاننا دینِ اسلام کو کُفْرجاننا ہے اور دینِ اسلام
Flag Counter