جواب:قائِل کا قَول تو یَقیناً کُفْر ہے مگراس کی تَکْفِیْر نہیں کی جائیگی کہ بے خیالی میں یہ کَلِمَہ صَادِر ہوا۔ صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدْرُ الطَّريقہ حضرتِ علامہ مَولانامُفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُاللہِ القوی فرماتے ہیں:'' کہنا کچھ چاہتا تھااور زَبان سے کُفْرکی بات نکل گئی تو کافِر نہ ہوا یعنی جبکہ اِس اَمر سے ا ظہارِنفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہوجائے کہ غَلَطی سے یہ لفْظ نکلا ہے اور اگر بات کی پَچ کی (یعنی جو کچھ منہ سے نکلا اُس پراَڑارہا) تو اب کافِر ہوگیا کہ کُفْر کی تائید کرتا ہے۔''
(بہارِ شریعت حصّہ9 ص 174)
سُوال:اگرکوئی نابالِغ بچّہ کلِمهٔ کُفْر بک دے تو کیا اُس پر بھی حکمِ کُفر لاگو