جواب:نہیں۔ کیوں کہ یہ کُفرِلُزُومی ہے اور ایسا شخص اسلام سے خارِج نہیں ہوتا ، اِس کا نکاح بھی نہیں ٹوٹتا اس کی بیعت بھی برقرار رہتی ہے اور اس کے سابِقہ اعمال بھی برباد نہیں ہوتے۔ البتّہ اس کیلئے تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حُکم ہے۔ چُنانچِہ ميرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہْلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن نقل کرتے ہیں:علامہ حسن بن عَمّار شُرُنبُلا لی(علیہ رحمۃُ اللہِ الوالی)شَرحِ وَھبانِیہ میں پھرعلامہ عَلائی (علیہ رحمۃُ اللہِ الباقی)شَرحِ تَنویر میں فرماتے ہیں: '' جومُتَّفِقہ کفر ہو وہ اَعمالِ صالِحَہ اور نکاح کو باطِل کر دیتا ہے اور اسکی اولاد اولادِ زِنا ہوگی۔ اور جس(قول یا فِعل کے کفر ہونے) میں خِلاف (یعنی اِختِلاف)ہو تو اسے اِستِغفار ، توبہ ا و ر تجدیدِ (ایمان و) ِکاح کا حکْم دیا جائے گا ۔"