جواب:ایسا شخص اگر چِہ اسلام سے خارِج نہیں ،تاہَم اس کیلئے توبہ وتجدیدِ ایمان و نکاح کا حکم ہے۔ چُنانچِہ ميرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:''پھر جبکہ اَئِمهٔ دِین (یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمین )ان کے کفر میں مُختَلف ہوگئے تو راہ یہ ہے کہ اگر اپنا بھلا چاہیں جلد اَز سرِنَو کلمۂ اسلام پڑھیں ۔ '' چندسُطُور بعد مزید فرماتے ہیں:''اس کے بعد اپنی عورَتوں سے تجدیدِ نکاح کریں کہ کفرِخِلافی(یعنی جس قول یا فعل کے کُفر ہونے میں فُقہا اور مُتَکِلّمین کا اِختِلاف ہو اُس) کا حُکم یِہی ہے۔"