Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
52 - 692
 انکار لازم آئے۔اس کی بَہُت سی صورتیں ہوتی ہیں ۔
اختِلافی کُفر کے بارے میں حُکم
سُوال:ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس کے ''قول ''کے کُفر ہونے نہ ہونیميں آئمۂ دِین یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمین کا اِختِلاف ہو۔
جواب:ایسا شخص اگر چِہ اسلام سے خارِج نہیں ،تاہَم اس کیلئے توبہ وتجدیدِ ایمان و نکاح کا حکم ہے۔ چُنانچِہ ميرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:''پھر جبکہ اَئِمهٔ دِین (یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمین )ان کے کفر میں مُختَلف ہوگئے تو راہ یہ ہے کہ اگر اپنا بھلا چاہیں جلد اَز سرِنَو کلمۂ اسلام پڑھیں ۔ '' چندسُطُور بعد مزید فرماتے ہیں:''اس کے بعد اپنی عورَتوں سے تجدیدِ نکاح کریں کہ کفرِخِلافی(یعنی جس قول یا فعل کے کُفر ہونے میں فُقہا اور مُتَکِلّمین کا اِختِلاف ہو اُس) کا حُکم یِہی ہے۔"
( فتاوٰی رضویہ ج 15ص 445 ، 446)
کُفرِ لُزُومی میں اَعمال برباد ہو جاتے ہیں یا نہیں؟
سُوال:جس کے کسی قول یا فعل کے کفر ہونے میں اَئمّہ دین یعنی فُقہا اور مُتَکِلّمین کا اِختِلاف ہو، کیا اُس کے بھی تمام اعمال برباد ہو
Flag Counter