Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
473 - 692
 السَّلام )کے طور پرحکم سخت تر۔ر سولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: جو کسی مشرِک کے ساتھ مَیل جُول رکھے اور اُس کے ساتھ سُکونَت پذیر رہے تو وہ بھی اُسی جیسا ہے۔
(سُنَنُ ابی داو،دج3 ص122 حدیث 2787)
دوسری حدیث میں ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں

سے ہے۔
(تاریخِ بغداد ج10 ص 42 حدیث 5167 )
 قَشْقَہ( ٹیکا) کہ ماتھے(یعنی پیشانی) پر لگایا جاتا ہے صِرف شِعارِ کّفار نہیں بلکہ خاص شِعارِکُفر(یعنی کُفر کاطور طریقہ )بلکہ اس سے بھی اَخْبَث (یعنی ناپاک ترین) خاص طریقۂ عبادتِ مَہا دَیو وغیرہ اَصنام (یعنی بُتوں کی پوجا پاٹ کے طریقے) سے ہے۔ اِس کے لگانے پر راضی ہونا کُفر پر رِضا (راضی ہونا)ہے اور اپنے لئے ثُبوتِ کفر پر رِضا بِالاِ جماع  کُفر ہے ۔''مِنَحُ الرَّوْض'' میں ہے: جو اپنی ذات کے کُفر پرراضی ہو اوہ بِالاِتِّفاق کافِر ہے اور جو کسی کے کُفر پر راضی ہوا اس کے بارے میں مَشائخ کا اِختِلاف ہے۔
( مِنَحُ الرَّوضص 484 )
اور کفر پر رِضاجَیسی سوبرس کے لئے ویسے ہی ایک لمحہ کے
Flag Counter