جواب:جی ہاں۔چُنانچِہ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:عملِ جَوارِح (یعنی ظاہِری اعضاء کے ذریعے کئے جانے والے عمل)داخلِ ایمان نہیں۔ البتّہ بعض اعمال جو قَطعاً مُنافِیٔ ایمان (یعنی یقینی طور پر ایمان کے اُلَٹ)ہوں اُن کے مُرتکب کو کافِر کہاجائیگا ۔ جیسے بُت یا چاند سورج کوسَجدہ کرنا اور قَتلِ نبی یا نبی کی توہین یا مُصحَف شریف (یعنی قراٰنِ پاک) یا کعبۂ معظمہ کی توہین اور کسی سُنّت کو ہلکا بتانا یہ باتیں یقینا کُفر ہیں۔ یوہیں بعض اعمال کُفر کی علامت ہیں جیسے زُنّار باندھنا(1)، سرپر چُٹیا رکھنا ، قَشقہ(یعنی ہندؤوں کی طرح پیشانی پر