میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!صحابیٔ رسو ل حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن حُذافَہ سَہْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ استِقامت کے کس قَدَر زبردست پہاڑ تھے ، شریعت کی دی ہوئی رخصت کے مطابِق تَورِیہ کے ذَرِیعے اپنی جان بچانے کیلئے راضی نہ ہوئے بلکہ عَزِیمت پر عمل کرتے ہوئے اپنے مَوقِف(نقطہئ نظر) پر ڈٹے رہے، اور اگرغم تھا ، صدمہ تھا، تڑپ تھی تو یہ تھی کہ کاش میرے رُوئیں رُوئیں میں ایک ایک جان ہوتی اور میں اپنی کروڑوں جانوں کو اپنے پیارے پیارے اللہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ پر قربان کر دیتا ۔ پھر جب عَزِیمت پر قائم رہتے ہوئے جان بچنے کی صورت درپیش ہوئی تب بھی فَقَط اپنی فکر نہ کی بلکہ مسلمانوں کی زبردست خیرخواہی کی مثال قائم کرتے ہوئے سارے ہی مسلمان قیدیوں کی رہائی کی ترکیب فرمائی۔