کا دامن مضبوطی سے تھامے ہوئے ڈٹے رہے ۔ پھر اُس نے سُولی سے اُتارنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد بادشاہ نے تانبے کی ایک دیگ تَپانے کا حکم دیا اورایک مسلمان قیدی کوآپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کے سامنے تپتی ہوئی دیگ میں ڈَلوادیا اور اُس نے وہیں تڑپ کر جان دے دی۔ اس کے بعد پھربادشاہ نے کوشِش کی کہ یہ نصرانیَّت(یعنی کرسچین مذہب)قَبول کرلیں لیکن آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے صاف انکار کردیا۔ آخِر بادشاہ نے آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کو بھی گرما گرم دیگ میں ڈالنے کا حکم دے دیا ۔ جب جَلّاد انھیں اُٹھا کر اس تَپتی ہوئی دیگ کی طرف لیجارہے تھے تو بے ساختہ آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے ۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کو کچھ اُمّید پیداہوئی کہ شایداب اسلام کو چھوڑکر میرا مذہب قبول کرلیں گے۔ اس نے واپَس لانے کا حکم دیا،رونے کی وجہ پوچھی۔ لیکن آ پ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرما کر اس کی امّیدوں پر پانی پھیر دیا کہ مجھے رونا اس بات پر آیا کہ میری صرف ایک ہی جان ہے جسے آگ میں ڈالا جا رہا ہے ، کاش !میرے پاس