Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
467 - 692
(2) یہ اِک جاں کیا ہے کروڑوں۔۔۔۔۔۔۔
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن حُذافَہ سَہْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کورُومیوں نے قید کر لیااور اپنے بادشاہ کے پاس لے آئے ۔ اُس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ نصرانیَّت قَبول کرلو ، میں تمہیں اِقتِدار میں بھی شریک کرلوں گا اوراپنی بیٹی کا رشتہ بھی دوں گا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنه نے فرمایا : '' اگر تو اپنا تمام مال و مِلکیَّت بلکہ اس کے ساتھ اہلِ عرب کی ساری کی ساری دولت بھی اگر اس شرط پر دے کہ میں ایک لمحہ کے لیے اپنے پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دین سے پھر جاؤں توپھر بھی میں قَبول نہیں کروں گا۔'' بادشاہ نے کہا کہ میں تمہیں قتل کردوں گا۔ آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جو چاہو کرو ۔ چُنانچِہ بادشاہ کے حکم سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسُولی پرلٹکادیا گیا اور تیراندازوں کو کہا کہ ان کے ہاتھوں اور پاؤں پر آہِستہ آہِستہ چوٹیں لگاؤ ۔ انہوں نے ایسا کرنا شروع کیا ، اِس دَوران بادشاہ برابر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نصرانیَّت(یعنی کرسچین مذہب) پیش کرتا رہا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبر واِستِقلال
Flag Counter