ھِدایہ شریف میں ہے:'' اگر جان سے مار ڈالنے یا جسم کے کسی عُضْوْ کو ضائِع کر دینے کی صحیح دھمکی دیکر کسی سے کہا جائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اِنکار کر یامَعَاذ اللہ سرکارِ مدینہ صلّی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلَّم کو گالی دے تو اس کو اِجازت ہے کہ اس بات کا اظہار کردے جو اُسے(ظالم کی طرف سے ) حکم دِیا گیا اورتَو رِیہ کرے ۔پس اگر اس نے(ظالم کے کہنے کے مطابِق) ظاہر کردِیا اِس حال میں کہ اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو تو اِس پر کوئی گناہ نہیں اوراگر صَبْر کرے یہاں تک کہ شہید کردیا جائے اور کُفْر کوظاہِر نہ کرے تو اس کو اللہ عَزَّوَجَلّ