جواب:تَورِیہ کے معنیٰ ہیں ظاہِری اَلفاظ کچھ ہوں اور مُراد کچھ۔ مَثَلاً کِسی نے کہا: کھانا کھا لیجئے۔ حالانکہ آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا پھر بھی جواب یہ دیا کہ'' میں نے کھانا کھا لیا ہے۔'' یہ جھوٹ ہوا۔ اگر یہ جواب دیتے وقت دل میں یہ نیّت تھی کہ'' میں نے کل کھانا کھا لیا ہے ''تو یہ تَورِیَہ ہوا ۔ مگر یادرکھئے! بِلا اجازتِ شَرْعی تَورِیَہ کرنا جائز نہیں۔چُنانچِہ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہِر معنی ہیں وہ غَلَط ہیں مگر اس نے دوسرے معنی مُراد لیے جو صحیح ہیں۔ایسا کرنا بلاحاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ تم نے کسی کو کھانے کے لیے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مُراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔