وفِعل میں '' تَورِیَہ'' کرے یعنی اگر چِہ قَول یا فِعل کا ظاہِر کفر ہو مگر اس کی نیّت ایسی ہو کہ کفر نہ رہے مَثَلاً اس کو مجبور کیا گیا کہ مَعاذَاللہ بُت کوسَجدہ کرے اور اس نے سَجدہ کیا تو یہ نیّت کرے کہ بُت کو نہیں بلکہ خدا کوسَجدہ کرتا ہوں۔ یا مَعَاذَاللہ سرکار رِسالت مَآب صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلم کی جناب میں گستاخی کرنے پر مجبور کیا گیا تو(گستاخی کرتے وقت) کسی دوسرے شخص کی نیّت کرے جس کا نام محمد ہو۔ اور اگراس شخص کے دل میں تَورِیہ کا خیال آیا مگرتَورِیَہ نہ کیا یعنی خدا کے لئے سجدہ کی نیّت نہیں کی تو یہ شخص کافر ہو جائیگا اور اس کی عورت نکاح سے خارِج ہو جائے گی اوراگر اس شخص کوتَورِیَہ کا دھیان ہی نہیں آیا کہ تَوریہ کرتا اور بُت کو ہی سجدہ کیا مگر دل سے اس کا مُنکِر (یعنی انکاری) ہے تو اس صورت میں کافر نہیں ہوگا۔''