| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
جس کو دھمکی دی گئی وہ جانتا ہے کہ یہ ظالم جو کچھ کہہ رہا ہے کر گزرے گا۔ تو اب ظاہِری طورپرکلِمۂ کُفر بکنے یا بُت کو سجدہ وغیرہ کرنے کی رُخصت ہے اور دل حسبِ سابِق ایمان پر مطمئن ہونے کی صورت میں کافِر نہ ہو گا۔
(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج9ص 226)
اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ 14سورۂ نَحل آیت نمبر 106میں ارشاد فرماتا ہے:
مَنۡ کَفَرَ بِاللہِ مِنۡۢ بَعْدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِۢالۡاِیۡمَانِ
ترجمۂ کنزالايمان:جو ایمان لاکر اللہ (عَزَّوَجَلّ)کا مُنکِر ہو سِوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ۔
مجبوری میں تَوْرِیَہ کی صورَتیں
سُوال:اِکراہِ شرعی پائے جانے کی صورت میں اگر کوئی ''تَورِیہ '' کرنا جانتا ہو تو کیا حکْم ہے؟
جواب:اِس کی مُختَلف صورَتوں کا بیان کرتے ہوئےصدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:'' اُس شخص کو چاہئے کہ اپنے قول