Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
427 - 692
 ایمان کی سلامتی کے بارے میں اِنتہائی مُتَفَکِّر(یعنی فکر مند)رہتے تھے۔ چُنانچِہ حُجَّۃُ الاسلام سیِّدُناامام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نَقل کرتے ہیں :حضرتِ سیِّدُنا سُفیان ثَوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بوقتِ وفات رونے اور چِلّانے لگے۔ لوگوں نے دِلاسہ دیتے ہوئے عرض کی :یا سیِّدی !گھبرائیے نہیں، اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت پر نظر رکھئے۔ فرمایا : بُرے خاتِمے کا خوف رُلا رہا ہے اگر ایمان پر خاتِمے کی ضَمانت مل جائے تو پھر مجھے اِس بات کی پرواہ نہیں اگر چِہ پہاڑوں کے برابر گناہوں کے ساتھ ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کروں۔
(اِحیاءُ الْعلوم ج4ص211)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتِمہ یا الہٰی
Flag Counter