جواب:حرام ہے۔ یاد رکھئے!بُری صُحبت بُرا رنگ لاتی ہے، جو لوگ کُفّار کے مُمالِک میں تعلیم یا رُوزگا ر کے سلسلے میں جاتے اور وہاں کُفّار کی صحبتیں اپناتے ہیں نیز جو لوگ اسلامی ممالِک میں بھی کفّار کو دوست بناتے اور ان سے دوستیاں رَچاتے ہیں اُن سب کے لئے لمحۂ فکرِیَّہ ہے۔''خَزائنُ العِرفان''صَفْحہ96پر ہے: '' کُفّار سے دوستی و مَحَبَّت ممَنوع و حرام ہے۔ انہیں راز داربنانا ،ان سے مُوالات (یعنی باہَمی اتّحاد )کرنا ناجائز ہے۔ اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صِرْف ظاہِری برتاؤ جائز ہے۔''
پارہ 3 سورۂ اٰ لِ عِمران کی 28 ویں آیتِ کریمہ میں خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: