Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
424 - 692
صدرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُ الطَّريقہ،حضرتِ علامہ مَولانامفتی محمد امجد علی اَعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' کُفْری بات کا دل میں خیال پیدا ہوا اورزَبان سے بولنا بُرا جانتا ہے تو یہ کُفْر نہیں بلکہ خاص اِیمان کی عَلامَت ہے کہ دِل میں اِیمان نہ ہوتا تو اسے بُراکیوں جانتا۔''
(بہارِشریعت حصّہ 9 ص 174 )
مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ وسوسے اور اُن کا علاج ہَدِیّۃً حاصِل کر کے پڑھ لیجئے ۔
''مجھے فُلاں کُفرِیہ وسوسے آتے ہیں'' کہنا کیسا؟
سُوال:اگرکسی کے سامنے تذکِرہ کیاکہ مجھے فُلاں فُلاں کفریہ وسوسے آتے ہیں، میں ان سے تنگ ہوں، مجھے کوئی علاج بتایئے۔ کیا اِس صورت میں بھی حکم کفر ہے؟
جواب:نہیں ،اِس صورت میں حکمِ کفر نہیں۔
وَسوَسوں کے تین علاج
 (1)مُسلِم شریف کی روایت میں ہے کہ محبوبِ ربِّ ذوالجلال، شاہِ خوشخصال ،شَہَنْشاہِ شیریں مَقال، صاحِبِ جُودونَوال عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلَّم کا ارشادِ باکمال ہے :لوگ ایک دوسرے سے
Flag Counter