جواب:ذِہن میں کُفْرِیَّہ خیالات کا آنااور انہيں بيان کرنے کو بُرا سمجھنا عَین اِیمان کی عَلامَت ہے کیونکہ کُفْرِیّہ وساوِس شَیْطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ لَعِیْن مَرْدُوْد چاہتا ہے کہ مسلمان سے ایمان کی دولت چھین لے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت ہے، نبیِّ رَحمت، شفيعِ اُمّت صلَّی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلَّم کی خدمتِ سراپا عظمت میں بعض صَحابۂ کِرام علیھم الرضوان نے حاضِر ہو کر عرض کی:همیں ایسے خَیالات آتے ہیں کہ جنہیں بَیان کرنا ہم بَہُت بُرا سمجھتے ہیں ۔ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کیاواقِعی ایسا ہوتا ہے؟ اُنہوں نے عَرض کی:جی ہاں ۔ارشاد فرمايا:''يہ توخالِص ايمان کی نشانی ہے۔''