خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی بارگاہ میں اسی طرح کاسوال ہوا تو جواب میں ارشادفرمایا:داڑھی کے سا تھ اِستِہزاء بھی ضَرور کُفر ہے۔ زَید کا ایمان زائل (برباد) اور نِکاح باطِل اور عُذرِ جہل(مسئلہ معلوم نہ ہونے کا عُذر)غَلَط و عاطِل(یعنی بے کار) کہ زَید نہ کسی دُور دراز پہاڑ کی تلی کا رہنے والا ہے ،نہ ابھی تازہ ہِند و سے مسلمان ہوا ہے کہ اُسے نہ معلوم ہو کہ داڑھی شِعارِ اسلام ہے، اورشِعارِ اسلام سے اِستِہزاء(ہنسی مذاق) اسلام سے اِستِہزاء (مسخری کرنا )ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اِس سے نِکاح ٹوٹ جانا نہ جانتا ہو، مگر اس کا نہ جاننا اس کے نِکاح کو محفوظ نہ رکھے گا ، شیشے پر پتّھر پھینکے شیشہ ضَرور ٹوٹ جائے گا اگر چِہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس سے ٹوٹ جاتا ہے۔ وَاللہُ تعالٰی اَعلم ۔