Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
415 - 692
لینا جبکہ وہ مُنکِر ہو اوربِغیر ایسی ضَرورت جو اِس کو مَخمَصہ(مَثَلاً بھوک کی اِضطِراری حالت)میں مُبتَلاکر دے۔غَصَب کی حُرمت ضُروریاتِ دین میں سے ہے۔''
 (فتاوٰی رضویہ ج19 ص675)
حرام کو حلال کہنے کے مُتَعَلِّق کُفریات کی11 مثالیں
(1)جس نے کہا:''میں حلال و حرام کو نہیں پہچانتا''اس پر حکمِ کفر ہے جبکہ کہنے والا حرام و حلال کو برابر یعنی ایک طرح کا سمجھے۔
 (مِنَحُ الرَّوض ص 473)
(2) جس نے کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام مان لیا تو وہ کافِر ہو جائے گا ، یہ اِس صورت میں ہے کہ وہ حرام لذاتہٖ ہو اور اس کی حرمت دلیلِ قَطعی سے ثابِت ہو۔
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج 14 ص 147، خلاصۃُالفتاوٰی ج4 ص 383 )
اور وہ ضروریات دین کی حد تک ہو ۔
(3)رِزقِ حرام کھانے کے بعد اس پر اَلحَمدُ للہ کہنا کفر ہے کہ یہ رِزقِ حرام کھانے کو پسند کرنا ہے البتّہ اگر مُطلَق رِزق پر اَلحَمدُ للہ کہا قَطع نظر اِس کے کہ یہ حرام ہے ہى یا حلال تو حکمِ کفر نہیں۔
( مِنَحُ الرَّوض ص 462)
Flag Counter