جواب:مذکورہ غصَب حرام ہے، غصب کی حُرمت ضَروریاتِ دین میں سے ہے لہٰذا اگر واقِعی زَید نے غصَب کو حلال قرار دیا ہے تو اُس پر حکمِ کفر ہے۔ ایسے ہی ایک سُوال کے جواب میں میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :''اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے حرام کوحلال جانا تو اس وَقتلُ زومِ کُفر ہوگا بلکہ عِندَ التَّحقیق بِلاشُبہ کُفر ہو گا ، کیونکہ کفر کا دارو مدار ضَروریاتِ دین کے انکار پر ہے اور اس میں شک نہیں کہ بِغیر حِیلۂ شرعِیّہ مَثَلاً کسی سے اپنے حق کے بدلے