جواب:مُطلَقاًگوشت کو حرام کہنا کُفرہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حلال کردہ کو حرام ٹھہرانا ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:نَماز کا مُنکِر کافِر ہے ، روزہ کا مُنکِر کافر ہے ، جو نَماز پڑھنے کو بُرا کہے، نمازی پرنماز پڑھنے کی وجہ سے طعن و تشنیع کرے کافِر ہے، روزہ رکھنے کو جو بُرا کہے، روزہ دار پر روزہ کی وجہ سے طعن کرے وہ کافِر ہے، گوشت کھانے کومُطْلَقاً حرام کہنا کُفر ہے، قربانی کو ظلم کہنے والا کافِر ہے، ان اِعتِقادوں والے مُطلَقاً کُفّار ہیں۔ پھر اگر اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان کہتے یا کلمہ پڑھتے ہوں تو مُرتَد ہیں کہ (مُرتَدین)دنیا میں سب سے بد تر کافِر ہیں ، ان سے مَیل جُول حرام ، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے جانا