لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ کسی دیندار کادین محفوظ نہ رہے گا سوائے اس شخص کے جو اپنے دین کو لے کر (یعنی اُس کی حفاظت کی خاطر)ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اور ایک سوراخ(یعنی غار)سے دوسرے سوراخ (یعنی غار)کی طرف بھاگ جائے۔اُس وقت مَعِیشت کاحُصول اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کئے بغیر نہ ہو گا۔ پھر جب یہ صورتِ حال ہو گی تو آدَمی اپنے بیوی بچوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا اگر اس کے بیوی بچے نہ ہوں گے تو والِدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگا اور اگر اس کے والِدین بھی نہ ہوں گے تو اس کی ہلاکت رشتہ داروں یا پڑوسیوں کے ہاتھوں ہو گی ۔ صَحابۂ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی:یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !یہ کیسے ہو گا؟۔