Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
410 - 692
 کیلئے تقدیر کو آڑ بناتا ہے اس لئے اس کا اس طرح کہنا سخت بے ادَبی اور بے دینی کی بات ہے،یہ جُملہ قائل کے مُنہ پَھٹ ہونے اور اللہ توَّاب عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے بے خوف ہونے پر دالّ(علامت) ہے۔ اگر اسے صحیح معنوں میں خوفِ خدا ہوتا ہر گز اس کے مُنہ سے ایسا جُملہ نہ نکلتا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عقل دی ہے، خَیر وشَراور حلال و حرام کو جُد ا و ممتاز بیان فرمادیاگیا ہے۔بندے کو جو ایک نَوعِ اختیار دی گئی ہے اُسے بَرُوئے کار لاتے ہوئے کوئی تو اچّھے کام اپناتا ہے،اور کوئی اپنے آپ کوبُرائی کے عمیق(یعنی گہرے) گڑھے میں گراتا ہے ،کوئی حلال روزی کماتا ہے توکوئی حرام کھاتا کِھلاتا ہے۔ بروزِقِیامت اعمال کا حساب ہونا ہے، نیکی کی جَزا ملے گی اوربُرائی کی سزا۔ قائل پر اپنے اِس جملے سے توبہ ضَروری ہے اور اسے حرام سے بچنا فرض ہے۔
ہُجوم میں رہ کر د ین کی حِفاظت کی دُ شواری
  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حرام مال کی نُحُوستیں بے شمار ہیں، ہمیشہ ایمان کی حفاظت کی فکر کرتے رہنا چاہئے ،نہ جانے کون سی ایسی
Flag Counter