Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
408 - 692
 حرام مال سے خیرات کرنا کیسا؟
سُوال:سُود یا رشوت یا ، جُوا یاچوری کی رقم سے بہ نیّتِ ثواب خیرات کرنا کیسا؟
جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے فرمانِ عالیشان کا خُلاصہ ہے: جس نے مالِ حرام کو اپنا ذاتی مال تصوُّر کر کے بَرِضاء و رغبت ثواب کی نیّت سے خیرات کیا اُس کو ہرگز ثواب نہیں ملیگا بلکہ اس کی بعض صورَتوں کو فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے کفر قرار دیا ہے۔ اور اگر اُس حرام مال کو حرام ہی سمجھا، اُس پر نادِم ہوا ،توبہ بھی کی مگر شریعت کے حکم کے مطابِق اُس کے مالِکان یا وُرثا ء تک پہنچانا ممکن نہ رہا اور چُونکہ ایسی صورت میں اب اُس کو خیرات کر دینے کا شرعاً حکم ہے لہٰذا اسی حکمِ شرعی کی بجا آوری کی نیَّت سے اُس نے اس مالِ حرام کو خیرات کر دیا۔ تو اگر چِہ اُس مال کی خیرات کا ثواب نہ ملیگا مگر خیرات کر دینے کے''حکمِ شرعی ''پر عمل کرنے کے ثواب کا حقدار ہو گا بلکہ اُس کا یہ فعل اُس کی توبہ کی تکمیل کا باعِث ہے۔(اس کی تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد 19 صَفْحَہ 656تا 661
Flag Counter