جواب:آج کل یہ لفظ اکثر لوگ بطورِ گالی استِعمال کرتے ہیں۔ شرارتی بچّے کو بھی شیطان بول دیتے ہیں۔اِس کی صورَتیں بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 13صَفْحَہ656 پر فرماتے ہیں:گمراہ بددین کو شیطان کہا جا سکتا ہے اور اُسے بھی جو لوگوں میں فِتنہ پردازی کرے، اِدھر کی اُدھر لگا کر فساد ڈلوائے، جو کسی کو گناہ کی ترغیب دے کر لے جائے وہ اُس کاشیطان ہے، اور مومنِ صالح کوشیطان کہنا شیطان کا کام ہے۔مزیدصَفْحَہ 652پر تحریر کرتے ہیں: مسلمانوں کو بِلا وجہ شَرعی مردود یا ابلیس کہنا