| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالۡاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَلَبِئْسَ الْمِھَادُ ﴿206﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ(عَزَّوَجَلَّ)سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضَرور بَہُت بُرا بچھونا ہے۔ (پ2 البقرہ 206)
ابلیس کی پَیروی سے حکمِ خدا و رسول پر نہ چلنا اور ظالم کے حکم پر چلنا گناہِ کبیرہ ہے،اِستحقاقِ جہنَّم ہے۔ مگر کوئی مسلمان کیسا ہی فاسِق فاجِر ہو یہ خیال نہیں کرتا کہ اللہ و رسول کے حکم پر اس (یعنی ظالم)کے حکم کو ترجیح ہے۔ ایسا سمجھے تو آپ(یعنی خود)ہی کافِر ہے۔ وَالعِیاذ بِاللہ تَعالٰی ۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعْلَمُ۔
(فتاوٰی رضویہ ج24 ص 348)
ڈانس کو جائز کہنا کیسا ؟
سُوال:''مُرَوَّجَہ ڈانس کو جائز کہنا ''کیسا ہے؟
جواب : فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام فرماتے ہیں:جو رقص کرنے کو جائز سمجھے اُس پر حکمِ کفرہے
(دُرِّمُختار ج6 ص 396 )
یہاں رقص سے مُراد لچکے توڑے کے ساتھ کیا جانے والا وہ ناچ (ڈانس)ہے