جواب :ترجیح کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم کے بجائے کسی دوسرے کے حکم پر عمل کرے یہ تو کفر نہیں جبکہ ترجیح کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ کسی کے حکم کو اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم سے بڑا سمجھا لیکن کوئی گنہگا ر سے گنہگار مسلمان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ کسی اور کے حکم کواللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم سے بڑا سمجھے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن اِسی طرح کے ایک اِستِفتاء کا جواب دیتے ہوئے فر ماتے ہیں:اور حکم سُن کر گناہ پر ہٹ (یعنی ضد)کرنا استحقاقِ عذابِ نار ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: