یہاں اُن لوگوں کیلئے کافی درسِ عبرت ہے جو دین کے کام کے نام پر دھمکیاں دے کر زبردستی '' چندہ''نکلواتے، ہڑتالیں کر کے جبراً مسلمانوں کی دُکانیں بند کرواتے، گاڑیاں اور اِملاک جلاتے، مسلمانوں میں خوف و ہِراس پھیلاتے ، بسوں پر پتَّھر برساتے ، اس طرح کی حرکات سے عام مسلمانوں پر طرح طرح سے ظلم ڈھاتے اور پھر مَعاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ کیا کریں حالات ہی ایسے ہیں، اگر ہم یوں نہ کریں تو دین کا کام نہیں ہو سکتا!یادرکھئے!اللہ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ بے نیاز ہے اُسے اِس بات کی قَطْعاً حاجت نہیں کہ کوئی دین کا کام کرے ہی کرے۔ ہم خود اُس کے محتاج ہیں لہٰذا ہمیں ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ اور شاہِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احکامات کی روشنی ہی میں عبادات اور دین کی خدمات بجا لانی چاہئیں۔ بِالفرض کوئی مَعصِیَّت کے ذَرِیعے دین کی خدمت میں ظاہِری زِیادَت (یعنی بظاہِر ترقّی)