سُوال:غیرمَحرَمہ کا بوسہ لینے کو جائز سمجھے اُس کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب:ایسا بے حیا شخص کافر ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں:جو اجنبی عورت کا بوسہ لینا جائز سمجھے وہ کافِر ہے۔
(مِنَحُ الرَّوضص 509)
گُناہوں کے ذَریعے د ین کی خدمت
سُوال:بعض لوگ دین کا کام کرنے کیلئے ناجائز ذرائِع استعمال کرتے ہیں اگر کوئی اعتِراض کرے تو کہتے ہیں کہ آج کل دین کاکام اِسی طرح ہوتا ہے۔ ان کا یہ جواب کہا ں تک دُرست ہے؟
جواب:صدرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطَّريقہ، حضرتِ علامہ مَوْلانامُفتی محمد امجَد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:ایک شخص گناہ کرتا ہے، لوگوں نے اسے منع کیا، تو کہنے لگا:''اسلام کا کام اِسی طرح کرنا چاہئے ''یعنی جو گناہ و مَعصِیَّت(یعنی اللہ و رسول کی نافرمانی)کو اسلام