Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
397 - 692
بد فِعلی کو جائز سمجھنا کیسا؟
سُوال:جوبد فِعلی کو جائز سمجھے یا جائز کہے کیا وہ مسلمان ہی رہے گا؟
جواب:نہیں، وہ کافِر ہو جائیگا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں :جس نے حرامِ اِجماعی کی حُرمَت کا انکار کیا یا اُس کے حرام ہونے میں شک کیا وہ کافر ہے جیسے شراب(خمر)، زِنا، لوِاطَت، سُود وغیرھا۔
(مِنَحُ الرَّوضص 503 )
 میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن ،لواطت کے حلال ہونے کے قائل کے بارے میں ارشادفرماتے ہیں :''حل لواطت کا قائل کافرہے ''
( فتاوٰی رضویہ ج 23 ص 694)
''کاش!بد فِعلی جائز ہوتی'' کہنا کفر ہے
سُوال:اُس شخص کے لئے کیا حکم ہے جو جائز تو نہ کہے مگریہ تمنّا کر ے کہ کاش!بد فِعلی جائز ہوتی ۔
جواب:یہ تمنّا بھی کُفر ہے ۔ اَلْبَحْرُ الرّائِق جلد 5 صَفْحَہ 208 پر ہے: جو حرام کام کبھی حلال نہ ہوئے اُن کے بارے میں حلال
Flag Counter