Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
396 - 692
تھے:ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص ایک ہزار سال بعد جہنَّم سے نکلے گا۔ پھر فرمایا:کاش!وہ شخص میں ہوتا کیونکہ جہنَّم سے اس کا نکلنا یقینی ہے ۔ (یعنی اُس کا ایمان پر خاتِمہ ہونا طے شدہ ہے)حضرتِ سیِّدنا شیخ عبد الوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی یہ حِکایت بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:اے بھائی !اپنے نَفس کودُ نیوی اُمور میں صِر ف ضَرورتِ شَرعِیَّہ کے مطابِق مشغول رکھ، ہو سکتا ہے تجھے غفلت کی حالت میں موت آ جائے، تویوں تجھے دونوں جہانوں میں نقصان اٹھانا پڑے۔ وَالْعِیاذُ باللہِ تعالٰی ۔
     ( تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِّیْن ص161)
مسلمان کا قَتْل حلال جاننا کیسا؟
سُوال:کسی مسلمان کے ظُلماً قتل کرنے کو جائز قرار دینے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب :ایسا شخص کافر ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام فرماتے ہیں:وجہِ شَرْعی کے بِغیر کہنا کہ''فُلاں کا قَتل حلال ہے'' کُفْر ہے ۔
 (مِنَحُ الرَّوض ص 485)
Flag Counter