میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہاں ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت حصّہ چہارُم صَفْحَہ 369تا 370 سے چند سُطور پیش کرتا ہوں جن میں معلومات کا بیش بہا خَزانہ ہے۔ چُنانچِہ ميرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہْلِ سنّت، مُجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عليہِ رَحمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں:''حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے لکھا ہے تَواجُد(یعنی وَجد کی نَقّالی )سے وَجْد پید ا ہوتا ہے۔ تَشَبُّہ(یعنی نَقّالی ) کی صورت یہ ہے کہ بہ تکلُّف وَجد بنائے (کہ )ہوتے ہوتے (صحیح وَجد بھی)ہو جائے گا۔ ہاں یہ نیّت نہ ہو کہ لوگ میری تعریف کریں(کہ)یہ رِیا ہے اور حرام ہے۔ عرض:(کیا)صغیرہ کا اِستِخفاف (یعنی ہلکا جاننا) کبیرہ ہے؟ارشاد:(بلکہ )بعض اوقات صغیرہ کا اِستِخفاف(یعنی ہلکا جاننا) کُفرہوجائے گا جبکہ اس کا گناہ ہونا ضَروریاتِ دین سے ہو۔عُلَماء فرماتے ہیں:کسی نے