Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
392 - 692
 بیٹھتے ، موت کوبُھلا بیٹھتے اور نیک لوگوں سے رِشتہ تُڑا بیٹھتے ہیں وہ عام طور پر بے لگام ہوجاتے ہیں، ان کی زَبان گویا ان کے دل کے آگے ہوتی ہے، دل کی طرف رُجوع کرنے کی نَوبت ہی نہیں آتی بس جو کچھ زَبان کی نوک پر آیا پھسل کر باہَر آجاتا ہے اور وہ ہر دم بک بک کرتے رہتے ہیں اور پھر اس طرح مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ زَبان سے کُفرِیّات سر زد ہونے کا امکان بھی بڑھتاچلا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ پیدا کرنا چاہئے ۔ کروڑوں حنفیوں کے پیشوا اور میرے آقا و مولاحضرتِ امامِ اعظم ، فَقِیہِ اَفْخَم، امامِ ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خوفِ خدا مُلاحَظہ ہو۔ چُنانچِہ منقول ہے:ایک بارحضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی سے گفتگوفرما رہے تھے کہ کسی بات پر اچانک اُس شخص نے امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:اِتَّقِ اللہ!یعنی خدا سے ڈرو!ان ا لفاظ کا اُس کے مُنہ سے نکلنا تھا کہ سیِّدُنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چِہرہ زَرد پڑ گیا ، سر جُھکا لیا اورفرمانے لگے:''بھائی !اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو جَزائے خیر دے،عِلم پر جس وَقت کسی کو ناز ہونے لگے اُس وقت وہ اِس بات کا