| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
ہے مَثَلًا شرابی ،جُواری ،چور وغیرھم سب ہی اچّھے ہوں تو یہ اَفعال گناہ نہ ہوئے اور ان کو گناہ نہ جانناقراٰنِ مجید کا انکار ہے۔ ''
(فتاوٰی امجدیہ ج 4ص455)
''جھوٹ بولا تو کیابُرا کیا!''کہنا کیسا؟
سُوال:ایک شخص نے کسی بات پر بِلا اجازتِ شَرعی جھوٹ بولا۔ اس پر جب اُس کو کسی نے ٹوکا تو اُس منہ پھٹ نے بکا:''آج کل سچّائی کازمانہ نہیں ہے میں نے جھوٹ بولا تو کیا بُرا کیا!''اِس طرح کہنے والے کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب:اس طرح کہنے والے پر حکمِ کفر ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمت میں استِفتا(اِس۔تِفْ۔تا)پیش ہوا:عَمرو نے جان بوجھ کر کچہری (کورٹ)میں جھوٹی گواہی دی۔ لوگوں نے اِس پر اِعتِراض کیا تو کہنے لگا: کچہری میں آج کل سچ کون بولتا ہے!جتنے جاتے ہیں سبھی وہاں جھوٹ ہی بولتے ہیں، اگر میں نے جھوٹ کہا تو کیا بُرا کیا!الجواب:حدیث میں فرمایا:جھوٹی گواہی دینے والا وہاں سے