Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
384 - 692
علیہ السلام نے جو کہ و ہیں موجود تھے اِستِفسار کیا کہ یہ جوان کون ہے ؟ فرمایا:اس کی آج ہی شادی ہوئی ہے چُونکہ مجھ سے بے پناہ مُحَبَّت کرتا ہے اس لئے اس نے مجھ سے ملاقات کے بِغیر اپنی دُلہن کے پاس جانا گوارا نہ کیا لہٰذا ملنے آیا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت علیہ السلام نے کہا: اے داؤد!اِس دولھے کی عمر صرف چھ دن باقی رہ گئی ہے !یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام رنجیدہ ہو گئے ۔ اِس واقعہ کو سات ماہ گزر گئے مگر وہ نوجوان فوت نہ ہوا ۔ درایں اثنا ملک الموت آئے تو حضرتِ سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:اے ملکُ الموت !وہ نوجوان ابھی تک زندہ ہے! ملکُ الموت نے جواباً  کہا:جب میں نے چھ دن کے بعد اُس کی روح قبض کرنی چاہی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:اے ملکُ الموت !میرے بندے کو چھوڑ دو کیوں کہ جب یہ(حضرت )داؤد (علیہ السلام)کے پاس سے ہو کر باہَر نکلا اور اُس نے ایک لاچار فقیر کو پایا تو اس کو اپنی زکوٰۃ دیدی ، اس محتاج نے خوش ہو کر اُس کو درازئ عُمربِالخیر اورجنَّت میں (حضرت)داؤد