| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
کہتا یہ ہے کہ روزہ وہ رکھے جسے کھانا نہ ملے یا کہتا ہے: جب خُدا نے کھانے کو دیا ہے تو بھوکے کیوں مریں یا اِسی قسم کی اور باتیں جن سے روزہ کی ہَتک(ہَ۔تَکْ)و تَحقیر ہو کہنا کُفر ہے۔
(بہارِ شریعت حصّہ 9 ص 183 )
رَمَضان شریف کو بھاری مہینہ کہنا
سُوال:رَمَضانُ الْمبارَک کی آمد پر اس طرح کہنا کیسا کہ بَہُت بھاری مہینہ آ گیا !
جواب:فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السلام فرماتے ہیں:جو رَمَضانُ الْمبارَک کی توہین کی نیّت سے کہے:''بڑا بھاری مہینہ آ گیا ۔''وہ کافِرہے۔
(اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج5 ص 206 )
ہاں اگر روزہ رکھنا اس پر مشکِل ہے اور اس وجہ سے یہ کہتا ہے اور روزہ کی توہین اس کا مقصد نہیں تو کفر نہیں۔ لیکن اس طرح کہنا نہیں چاہئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت سے دل تنگ ہونا بُرا ہے۔
روزہ کی تعداد سے بیزاری کا اظہار
سُوال:رَمَضانُ المُبارَک کے روزوں کی تعداد کے بارے میں یہ کہنا کیسا