Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
369 - 692
قِبلہ رُو تھوکنے والا پیش امام
 رسولِ کریم،رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اُس نے قِبلہ کی طرف منہ کر کے تھوکا ہے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
لَا یُصَلِّیْ لَکُمْ
کہ یہ تمہاری جماعت نہ کرائے ۔ اُس نے پھر جماعت کرانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اُس کو مَنْع کیا اور اُس کو خبر دی کہ رسولِ کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمہارے پیچھے نَماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ پھر حُضُور سراپا نور ،فیض گَنجور، شاہِ غَیُور ، صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں یہ واقِعہ پیش ہوا۔ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ہاں ( میں نے منع کیا ہے)
اِنَّکَ اٰذَیْتَ اللہَ وَ رَسُوْلَہ۔
 کہ تُو نے (قبلہ کی طرف تھوک کر )اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دی ۔
  (سُنَنُ اَ بِی دَاو،د ج1 ص 203 حدیث 481)
کعبے کے کعبے کی بے ادَبی کرنے والا کیونکر امام ہو سکتا ہے!
 حضرتِ فقیہِ اعظم،خلیفۂ اعلیٰ حضرت علامہ مولیٰنا ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تَحت
Flag Counter