| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
سے فرمایا :چلو اُس شخص کو دیکھیں جس نے اپنے آپ کو بنامِ وِلایت مشہور کیا ہے ۔وہ شخص مَرجَعِ ناس و مشہورِ زُہد تھا ، (یعنی عقیدتمندوں کا اُس کے پا س ہُجوم رہتا تھا اور دنیا سے بے رغبتی میں اُس کی شہرت تھی)جب وہاں تشریف لے گئے اِتَّفاقاً اُس نے قبلہ کی طرف تھوکا ،حضرتِ سیِّدُناابو یزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً واپَس آئے اور اس سے سلام علیک نہ کی اور فرمایا:یہ شخص رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آداب سے ایک ادب پر تواَمین ہے نہیں، جس چیز کا اِدِّعا (یعنی دعویٰ کرنا)رکھتا ہے اُس پر کیا امین ہو گا۔
(الرِّسالۃُ القُشَیرِیّہ ص 38۔ فتاوٰی رضویہ ج 21 ص539)
اور دوسری رِوایت میں ہے ، فرمایا:یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر توامین ہے نہیں اَسرارِ اِلہٰیّہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رازوں)پر کیوں کر امین ہو گا!
(اَیضاً ص 292، ایضاً ص 540)
حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:اگر تم کسی شخص کو ایسی کرامت دیا گیا بھی دیکھوکہ ہوا پر چار زانو بیٹھ سکتا ہے تب بھی اُس سے فریب(دھوکا)نہ کھانا جب تک کہ فرض و واجِب، مکروہ و حرام ا ور محافَظَتِ حُدود و آدابِ شریعت میں اس کا حال نہ دیکھ لو۔
(اَیضاً ص 38، ایضاً ص 540)