جواب:اگر خانہ کعبہ کی توہین مقصود ہو توایسا شخص کافِر ومُرتَد ہو گیا لیکن یہ کسی مسلمان سے مُتَصوَّر(مُ۔ تَ۔صَو۔وَر)نہیں (یعنی مسلمان کے بارے میں ایسا گمان نہیں کیا جا سکتا)اور اگر تحقیر کی نیّت نہ ہو تو کافِر نہ ہوگا مگر پھر بھی قبلہ رُو تھوکنے سے بچنا چاہئے ۔ اِس ضِمن میں ایک سبق آموز حکایت مُلاحَظہ فرمائیے۔ چُنانچِہ
قبلہ کی طرف تھوکنے والے کی حکایت
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمی بسطامی کے والِد رَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی