Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
365 - 692
بخش)جانتا ہے۔ ہاں اگر دل سے(یعنی زبان سے کہے یا نہ کہے صرف دل میں بھی اگر )نَماز کو بیکاراور روزے کو مفت کا فاقہ جانے تو ضَرور کافِر ہے ۔
(فتاوٰی رضویہ ج14 ص 365)
  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نَماز اَحکامِ شریعت کے مُعامَلہ میں زَبان اوردل کوبَہُت قابو میں رکھنے کی ضَرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ معمولی سی لغزِش ہمیشہ کے لئے جہنَّم میں پہنچا دے۔
''آپ لوگ اللہ کا پیٹ بھریں ''کہنا کیسا؟
سُوال:ایک مقرِّر نے نَماز کی ترغیب دلاتے ہوئے کہا:''اگر آپ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا پیٹ بھریں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا پیٹ بھرے گا ۔ ''جب اُس کو اِس جملہ کی طرف توجُّہ دلائی گئی تو اُس نے کہا :''اللہ کا پیٹ بھرنے سے مُراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنا''ہے۔اس مقرّر کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب:یہ جُملہ کُفریہ ہے۔ ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کا پیٹ بھرنا''کے معنی ٰ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت ''کرنا جو اُس نے بتائے یہ بھی سر ا سر غَلَط ہیں۔جو عالم نہ ہو اُسے بیان کرنے کی شَرعاً اجازت نہیں۔
Flag Counter