Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
364 - 692
نَماز کو''ٹکّریں مارنا''کہنا کیسا؟
سُوال :نَماز کیلئے مسجِد کی طرف جاتے ہوئے کہا:ذرا ٹکّریں مار کر آتا ہوں ۔ کیا حکم ہے؟
جواب:نَماز کے لئے جاتے ہوئے یہ کہنا کہ ''ٹکّریں مار کر آتا ہوں''اگر نماز کی توہین کے طور پر ہے تو یقینا کفر ہے۔ ہاں اگر اُس نے انکساراً  اپنی نَماز کیلئے یہ الفاظ کہے تو کُفر نہیں ہوگا۔
نَماز کو بوجھ سمجھنا
سُوال:نَماز کو بوجھ تصوُّر کرنا کیسا ہے؟
جواب:نَماز کو ناپسند سمجھتے ہوئے بوجھ تصوُّر کرناکُفْر ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السلام فرماتے ہیں:جو شخص فرض نَماز کو ناپسند کرے وہ کافر ہے ۔ (مِنَحُ الرَّوْض ص466) میرے آقا اعلیٰ حضرت ،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:رَمَضان خُصُوصاً گرمیوں کے روزے ، نَماز خُصُوصاً جاڑو ں (یعنی سردیوں)میں صبح وعشاء کی نَفسِ اَمّارہ پر شاق (دشوار)ہوتی ہے، اس سے کافِر نہیں ہوتا جب کہ دل سے اَحکام کو حقّ و نافِع(نفع
Flag Counter