میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نَمازکی وجہ سے مصیبتیں آتی نہیں دُور ہو جاتی ہیں۔اگرکبھی کوئی مصیبت آبھی جائے تو نَماز کواُس کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتاکہ بے نمازیوں پر بھی تو سخت سخت مصیبتیں آ تی ہیں۔ جو مصیبت سے گھبرا کر شیطان کے بہکاوے میں آ کر بغاوت پر آمادہ ہو جاتا ہے وہ کتّے سے بھی گیا گزرا ہے۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:تمہارا پالا ہوا کتّا تمہارے ہاتھ سے سو بارمار کھائے پھر تم اسے ٹکڑا دکھاؤ تو دُم ہلاتا (ہوا)آ جاتا ہے، یہ صفت ہے خاشِعِین(رب سے ڈرنے والوں ) کی ۔ اے بندے !اگر تجھ پر رب ہزار بار سختی (آزمائش)کرے مگر تو حیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ کی آواز پر دوڑا ہوا مسجِد میں آ جا۔