جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: عالمِ دین کو بُرا کہنا اگر اُس کے عالمِ دین ہونے کے سبب ہے تو کُفر ہے اور عورت نکاح سے باہَر ۔خواہ بُرا کہنے والا خود عالِم ہو یا جاہِل ، اور عالم ،سُنّیُّ العقیدہ کی تَوہین جاہِل کو جائز نہیں اگر چِہ اُس(عالمِ بے عمل)کے عمل کیسے ہی ہوں۔اور بد مذہب و گمراہ ،اگر چِہ عالم کہلاتا ہو اُسے بُرا کہا جائے گا مگر اُسی قَدَر جتنے کا وہ مُستَحِق ہے، اور فُحش کلِمہ (یعنی گندی گالی)سے ہمیشہ اِجتِناب (بچنا) چاہئے ۔
( فتاوٰی رضویہ ج 21 ص 294)
عوام کوعُلَما سے بدظن کرنا بہت سخت گناہ ہے
سُنّی عالم کا سُنّی عالم کی مخالَفَت کرنے کے حوالے سے حکمِ مُمانَعَت