Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
351 - 692
بیان کرتے ہوئےصدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ،حضرت علامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:افسوس کہ اِس زمانہ میں جبکہ گمراہی شائِع ہو رہی ہے اور بد مذہبی زور پر ہے زید جو ایک سُنّی عالم ہے جیسا کہ سُوال میں ظاہر کیا گیا ہے، تَعَجُّب ہے کہ اُس کے رُفَقاءِ کار خودعُلَمائے اہلسنّت کوسَبّ وسَخِیف(یعنی گالی اور بیہودہ )الفاظ سے یاد کر کے عُلَماء کے اِعزاز وَقار کومِٹائیں اور زَید خاموش رہے بلکہ اپنے طرزِ عمل سے اِس پر رِضا مندی ظاہِر کرے، اگر واقِعی وہ سُنّی عالِم ہے تو اس کا یا اس کے رُفَقاء کا یہ فِعل بِنا بر حَسَد ہو گا، عوام کوعُلَماءسے بدظَنّ کرنا بَہُت سخت گناہ ہے کہ جب بد ظَنّ ہونگے(تو)اُن(یعنی عُلَما)سے بیزار ہو نگے اورہَلاکت میں پڑیں گے ۔ بِالجملہ زید کایہ طرزِ عمل بالکل جائز نہیں۔ جب عُلَمائے اہلسنّت کا وقار جاتا رہے گا اور ان سے بدظَنّی پیدا ہو گی تو خود زَید جس کو سُنّی عالِم بتایا جاتا ہے (وہ خود بھی)اس سے کب محفوظ رہے گا!وَاللہُ تعالٰی اعلم۔
(فتاویٰ امجدیہ ج4 ص 515)
Flag Counter