مگر یہ اوپر بتادیا گیا اور واجِبُ اللِّحاظ ہے کہ عالم وُہی ہے جو سُنّی صحیح العقیدہ ہو، بد مذہبوں کے عُلَماء علمائے دین نہیں،یوں تو ہندوؤں میں (بھی)پنڈِت اور نصاریٰ(کرسچینوں)میں (بھی)پادری ہوتے ہیں اور ابلیس کتنا بڑا عالم تھا جسے مُعلِّم الْمَلَکُوت (یعنی فرشتوں کا استاذ)کہا جاتا ہے،
(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے ):
اَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ
ترجَمَۂ کنزالایمان:اللہ نے اُسے باوَصف علم کے گمراہ کیا۔
ایسوں کی توہین کُفر نہیں بلکہ تاحدِّ مَقدور فرض ہے۔ حدیث شریف میں ہے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:کیا فاجِر کے ذِکر سے بچتے ہو ،اس کو لوگ کب پہچانیں گے، فاجِر کا ذِکر اس چیز کے ساتھ کرو جو اس میں ہے،