عالم کی تَوہین کی تین صورَتیں اور ان کے بارے میں حکمِ شَرْعی بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 21 صَفْحَہ129 پرفرماتے ہیں :(1)اگر عا لمِ (دین)کو اِس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ ''عالم ''ہے جب تو صَریح کافِر ہے اور (2)اگر بوجہِ عِلم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کِسی دُنیوی خُصُومت (یعنی دشمنی)کے باعِث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا (ہے اور)تحقیرکرتا ہے تو سخت فاسِق فاجِر ہے اور(3)اگر بے سبب(یعنی بِلاوجہ )رنج (بُغض )رکھتا ہے تو